زیارت النبیؐ بحالت بیداری- مکمّل کتاب

گذر گیا اب وہ دور ساقی، کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہاں میخانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہوگا

ہمیں پاکستان بچانا ہے جمہوریت نہیں

پاکستان کے مسائل کا واحد حل اسے خلافت راشدہ پاکستان بنانے میں ہے. جمہوریت الله کی بادشاہت کے خلاف اعلان جنگ ہے ، ہمیں پھر سلہوددین ایوبیؒ کی ضرورت ہے جو اجتہاد اور جہاد دونوں ہی کے فنون کا ماہر اور کردار کا غازی ہو

ہمیں سلاھددین ایوبیؒ ہی چاہییں

پاکستان پر اب وہ ہی حکومت کرے گا جو الله کا ولی اور درویش بھی ہو اور مجاہد بھی، جو مجد٘د بھی ہو اور سپہ سالار بھی، جو مسکینوں کی داد رسی کرنے والا اور ظالموں کی گردن اڑانے ولا ہو، الله کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے، دین و دنیا دونوں کے علوم میں مہارت رکھے، بلند کردار اور اور سخن دلنواز ہو، عاشق رسولؐ اور الله کی تلوار ہو

دریاۓ سندھ سے دریاۓ آمو تک

جناب زائد حمد کی افغان جہاد کی یادداشتوں پر مبنی اچھوتی کتاب پر ایک مختصر اور جامع تجزی

ادب رسولؐ اور عشق رسولؐ

ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

رسولؐ الله کے چند نام مبارک جنھیں شاید آپ نے پہلے نہ سنا ہو

ان ناموں کے جان لینے ک بعد قران پاک کے مفہوم و معانی کا بہر بیکراں کھل کر سامنے آجاتا ہے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پاکستان کے بارے میں بشارت اور سنہرا دور

پاکستان کے خلاف جو بھی کام کرے گا اپنے خاندان سمیت تباہ کر دیا جاۓ گا

Showing posts with label باخبر رہیے. Show all posts
Showing posts with label باخبر رہیے. Show all posts

Tuesday, June 18, 2013

امریکی بسکٹ


Monday, December 10, 2012

Thursday, November 15, 2012

کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں



کالکی اوتار
حال ہی میں بھارت میں شائع ہونے والی کتاب”کالکی اوتارا“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس کا کالکی اوتار کا تذکرہ ہے ‘ وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوگا تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی مگراس کے مصنف پنڈت وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔وہ سنسکرت کے معروف محقق اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور معروف محققین پنڈتوں کے سامنے پیش کیاہے جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیاہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔
ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں ايک عظیم رہنما کا ذکر ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا گیا ہے اس سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو کسی کالکی اوتار کا مزید انتظار نہیں کرنا ہے، بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کےے ہیں۔
1۔ ”وید“ کتاب میں لکھا ہے کہ”کالکی اوتار“ بھگوان کاآخری اوتار ہوگا جو پوری دنیا کوراستہ دکھائے گا۔ان کلمات کاحوالہ دينے کے بعد پنڈت ویدپرکاش يہ کہتے ہیں کہ يہ صرف محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔
2۔”ہندوستان“ کی پیش گوئی کے مطابق”کالکی اوتار“ ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے اور يہ عرب علاقہ ہے، جیسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔
3۔ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘ وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ” سومانب“ ہوگا۔ سنسکرت زبان میں ” وشنو“ اﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب اﷲ کا بندہ یعنی ”عبداﷲ“ ہے۔سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب امن ہے جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہوگا اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبداﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہے۔
4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ ”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ وہ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہو گا۔ مکہ میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔
5۔ ”وید “ کے مطابق”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔
6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں اﷲ تعالی نے غار حرا میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔
7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا” براق پر معراج کا سفر“ کیا يہ ثابت نہیں کرتا ہے؟
8۔ ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں اﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔
9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق” کالکی اوتار“ گھڑ سواری،تیز اندازی اور تلوار زنیمیں ماہر ہوگا۔
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے۔ وہ اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب ٹینک،توپ اور مزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے۔ کہ ہم تلواروں،تیروں اور برچھیوں سے مسلح ”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہیں۔حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیر انداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ہے۔

Kalki Avtar Aor Muhammad (S.) URDU

Wednesday, October 3, 2012

Friday, September 28, 2012

اکبر بگٹی کی موت اور سپریم کورٹ



Send Email
Print
Close
Close




   ShareThis



Thursday, September 20, 2012

Tuesday, September 4, 2012

پاکستان کے خوارج

Monday, August 27, 2012

ٹی ٹی پی کی حیوانی سوچ

Sunday, August 26, 2012

Friday, August 17, 2012

ضیاء شہید کی برسی کے موقع پے

یہ پیغام آج بھی اتنا ہی موزوں برمحل ہے جتنا کے کل تھا

Thursday, August 9, 2012

کیا "لاپتہ افراد" واقعی لاپتہ ہیں؟

از محمد عبد الحمید

جبگ/جیو کے حامد میر نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ میڈیا کے لوگ صرف 10 فی صد سچ بولتے ہیں، میرے سمیت۔ حامد میر ہی "لاپتہ افراد" کے معاملہ میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ اس معاملہ میں وہ کتنا سچ بول رہے ہیں؟
"لاپتہ افراد" صرف بلوچستان ہی میں کیوں ہیں؟ بات یہ ہے کہ دوسرے صوبوں میں دہشت گردی ہوتی ہے، جس میں لوگ مرتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں، لاپتہ نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں لاپتہ ہونے کی وجوہ میڈیا تلاش نہیں کرتا کیونکہ نہ مالک اس کی اجازت دیتے ہیں، اور نہ انھیں ڈالر دینے والا امریکہ۔
بلوچستان میں نہ حقوق کا مسئلہ ہے اور نہ احساس محرومی کا۔ حقوق کا مسئلہ تو موجودہ حکومت نے 18 ویں ترمیم سے ختم کر دیا۔ صوبوں کو اتنے اختیارات دے دیئے کہ وہ استعمال ہی نہیں کر پاتے۔ انھیں یہاں تک اختیار مل گیا کہ رشوت لے کر درسی کتابوں میں جو چاہیں ملک دشمن مواد شامل کر دیں (جیسے مشرقی پاکستان میں ہوا کرتا تھا) اور اپنی جیبیں بھر کر تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے ٹھیکے جن غیرملکی کمپنیوں کو چاہیں دے دیں۔  
احساس محرومی بھی لوٹ مار کا بہانہ ہے۔ پچھلے سالوں میں سینکڑوں بلین روپے بلوچستان کو دیئے گئے۔ موجودہ حکومت نے صرف اس سال 145 بلین روپے دیئے۔ وہ کہاں گئے؟ صوبہ کی کل آبادی اکیلے ضلع لاہور سے بھی کم ہے لیکن احساس محرومی ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔
دراصل، یہ سب امریکہ کے کہنے پر تراشے گئے بہانے ہیں۔ امریکہ بلوچستان کو علیحدہ کرا کے نیا ملک بنانا چاہتا ہے، جیسے اس نے سوڈان کا جنوبی حصہ کاٹ کر ایک نیا ملک، جنوبی سوڈان، بنوا دیا۔ (سوڈان کا 97 فیصد تیل جنوبی سوڈان سے نکلتا ہے۔) بلوچستان میں تیل، گیس اور معدنیات کے ساتھ امریکہ کے اور کئی مفادات ہیں۔ افغانستان سے نکل کر یہاں بیٹھنا چاہتا ہے، چین کو گوادر سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے، پاکستان اور ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے اور آبنائے ہرمز کے دہانے کو کنٹرول کرنا ہے (تاکہ جنگ کی صورت میں دشمنوں کو خلیج فارس سے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت وغیرہ سے تیل کی سپلائی روکی جا سکے)۔
چنانچہ امریکہ نے بلوچستان میں اسلم رائیسانی کو وزیر اعلی بنوایا، جسے حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں اور جس کا چھوٹا بھائی، لشکری رائیسانی، امریکی مصنف رون سسکنڈ کے مطابق امریکی، برتانوی اور فرانسیسی خفیہ اجنسیوں کا وظیفہ خوار ہے۔ (اب وہ پی پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے)۔ ایک کے سوا تمام ارکان اسمبلی کابینہ میں ہیں تاکہ خرابیوں پر کوئی انگلی نہ اٹھائے جبکہ وزیر اعلی سارا وقت اسلام آباد میں رہتا ہے۔ (اس کی سوچ ہے کہ وزیر اعلی وزیر اعلی ہوتا ہے، چاہے کوئٹہ میں رہے یا اسلام آباد میں۔)
بلوچستان سے فوج بلا لی گئی، پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت، جبکہ ماضی میں ہر یورش فوجی کاروائی سے ہی دبائی گئی۔ ملک دشمنوں کے خلاف ساری کاروائی ایف۔ سی۔ (فرنٹیئر کانسٹیبلری) کے ذمہ ہے۔ وہ دہشت گردوں کو پکڑ لے تو بھی ان کے خلاف کچھ کر نہیں سکتی۔ تفتیش پولیس کا اور سزا دینا عدالتوں کا کام ہوتا ہے لیکن ان دونوں اداروں کا وجود ہی نہیں۔ صدر پرویز مشرف نے پولیس کا دائرہ کار 5 فی صد رقبہ سے بڑھا کر 100 فی صد کر دیا لیکن اسلم رئیسانی نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اب کوئٹہ کے علاقہ کو چھوڑ کر لیویز کا پھر سے راج ہے، جو سرداروں کی بھرتی کردہ ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت اس کے اخراجات دیتی ہیں۔
"لاپتہ افراد" ہیں کون؟ میڈیا پتہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ لوگ کون ہیں، ان کا اور ان کے کنبوں کا کیا پس منظر ہے، ان کی آمدنی کہاں سے ہوتی ہے۔ اکثر کے تو پتے بھی معلوم نہیں۔ صرف تعداد بڑھانے کے لیئے ان کے نام لکھا دیئے گئے۔ جن کے پتے معلوم ہوئے وہ نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہو چکے تھے، افغانستان جا چکے تھے، کراچی میں کاروبار کرتے تھے یا ویسے ہی روپوش تھے۔ جو امریکی اور ہندوستانی ایجنٹ مقابلہ میں ہلاک ہو جاتے ہیں وہ "لاپتہ" کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ کچھ واقعی تحویل میں بتائے جاتے ہیں، ان سے تفتیش ہو رہی ہے۔ اگر مجرم ہونے کا ثبوت مل بھی جائے تو صوبائی حکومت نہ اپنی تحویل میں لیتی ہے، نہ مقدمہ چلاتی ہے۔ در حقیقت یہ وہ افراد ہیں، جو امریکی سرپرستی میں علیحدگی کے لیئے دہشت گردی کرتے ہیں اور جنھیں رہا کرانے کے لیئے امریکہ بے چین رہتا ہے۔ امریکہ سے امداد اور ہندوستان سے تربیت لے کر کرایہ کے لوگوں سے دہشت گردی کرائی جا رہی ہے۔ امرکی ایجنٹوں کو 500 ڈالر (تقریبا 50 ہزار روپے) مہینہ تک وظیفہ ملتا ہے۔ بگتی، مری، مینگل وغیرہ چند قبائل کے سردار ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ جو یہاں ہیں وہ بھی امریکی سرپرستی میں عیش کر رہے ہیں۔ ایک زین بگتی جب افغانستان کی طرف سے اسلحہ لاتے ہوئے پکڑا گیا تو اس نے پہلا فون امریکی سفارت خانہ کو کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں جب علیحدگی کی تحریک زوروں پر تھی تو بی۔ بی۔ سی۔ کو اس کے لیڈر جیری ایڈمز کا بیان اس کی اپنی آواز میں سنانے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں علیحدگی پسند سرداروں کے گھنٹے گھنٹے کے انٹرویو نشر ہوتے ہیں۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں "لاپتہ افراد" کے لیئے ہونے والا پراپیگنڈہ صحیح ہے، ان سے زیادہ بھولا کوئی نہیں۔ صحافیوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ شور مچائو، چینل اور اخبار مالکوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ علیحدگی پسندوں کے بار بار انٹرویو کرائو، غیرسرکاری تنظیموں کو ڈالر ملتے ہیں کہ مظاہرے کرائو اور دھرنے دو۔ رہی وفاقی حکومت تو اسے ملک دشمنوں کے خلاف کچھ کرنے کی فرصت کہاں۔ رحمان ملک صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ "غیرملکی ہاتھ ملوث ہے۔" اس نامحرم کا نام نہیں لیتے اور نہ اس کا ہاتھ مروڑتے ہیں۔
سپریم  کورٹ کا رویہ بھی حیران کن ہے۔ یا تو اسے حقائق کا علم نہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لیا جا رہا ہے۔ یا پھر سارا جوش و خروش امریکہ کو خوش کرنے کے لیئے ہے۔ فوجی اداروں پر لعن طعن بھی شائد اسی لیئے ہے کہ امریکہ کا ایک بڑا مقصد ہماری فوج کو بدنام کرنا بھی ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ میڈیا سچ تلاش نہیں کرتا، عدلیہ سچ سنتی نہیں اور فوج سچ بولتی نہیں کہ حکومت کے لیئے پریشانی پیدا نہ ہو۔ پھر
        خداوندا، ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں

Saturday, August 4, 2012