زیارت النبیؐ بحالت بیداری- مکمّل کتاب

گذر گیا اب وہ دور ساقی، کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہاں میخانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہوگا

ہمیں پاکستان بچانا ہے جمہوریت نہیں

پاکستان کے مسائل کا واحد حل اسے خلافت راشدہ پاکستان بنانے میں ہے. جمہوریت الله کی بادشاہت کے خلاف اعلان جنگ ہے ، ہمیں پھر سلہوددین ایوبیؒ کی ضرورت ہے جو اجتہاد اور جہاد دونوں ہی کے فنون کا ماہر اور کردار کا غازی ہو

ہمیں سلاھددین ایوبیؒ ہی چاہییں

پاکستان پر اب وہ ہی حکومت کرے گا جو الله کا ولی اور درویش بھی ہو اور مجاہد بھی، جو مجد٘د بھی ہو اور سپہ سالار بھی، جو مسکینوں کی داد رسی کرنے والا اور ظالموں کی گردن اڑانے ولا ہو، الله کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے، دین و دنیا دونوں کے علوم میں مہارت رکھے، بلند کردار اور اور سخن دلنواز ہو، عاشق رسولؐ اور الله کی تلوار ہو

دریاۓ سندھ سے دریاۓ آمو تک

جناب زائد حمد کی افغان جہاد کی یادداشتوں پر مبنی اچھوتی کتاب پر ایک مختصر اور جامع تجزی

ادب رسولؐ اور عشق رسولؐ

ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

رسولؐ الله کے چند نام مبارک جنھیں شاید آپ نے پہلے نہ سنا ہو

ان ناموں کے جان لینے ک بعد قران پاک کے مفہوم و معانی کا بہر بیکراں کھل کر سامنے آجاتا ہے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پاکستان کے بارے میں بشارت اور سنہرا دور

پاکستان کے خلاف جو بھی کام کرے گا اپنے خاندان سمیت تباہ کر دیا جاۓ گا

Showing posts with label تربیتِ نفس. Show all posts
Showing posts with label تربیتِ نفس. Show all posts

Thursday, December 6, 2012

Tuesday, August 28, 2012

بابوں کی حکمت کی باتیں

صوفی برکت علیؒ












































Friday, August 24, 2012

گستاخِ رسول ﷺ کو شیر نے پھاڑ کھایا

ابو لہب کے بیٹوں میں سے ایک کا نام عُتیبہ تھا۔ یہ بد بخت نبی ﷺ کی ایذا رسانی میں سب سے آگے اور گستاخیٔ رسالت میں بڑا بے باک تھا۔ اس نے ایک دن یہ ناپاک جسارت کی کہ نبی ﷺ کی قمیص مبارک کو پھاڑ دیا اور آپ ﷺ کے روئے زیبا پر تھوکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس وحشیانہ گستاخی پر آپ ﷺ نے اس کے حق میں یہ بد دعا فرمائی: "اے میرے پروردگار! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔"

مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام گیا۔ جب راستے میں "الزرقاء" نامی جگہ پر قافلے نے پڑاؤ ڈالا۔ عتیبہ کو جنگل کی اس دہشت ناک فضاء میں رسول اللہ ﷺ کی بد دعاء یاد آئی۔ وہ خوف سے کانپنے لگا، چنانچہ اسے اس بددعا کے خوف سے اونٹوں اور قافلہ والوں کے حصار میں بڑی حفاظت سے سلایا گیا مگر اس تدبیر پر تقدیر غالب رہی۔ رات کو اس طرف ایک شیر آ نکلا۔ قافلے والوں نے اسے دیکھا تو وہ دہشت زدہ ہو گئے۔ اور عتیبہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے وہ بدحواس ہو کر چیخنے لگا: واللہ! یہ شیر مجھے محمد ﷺ کی بددعا کے نتیجے میں کھا جائے گا، ہر چند وہ مکہ میں ہیں اور میں یہاں شام میں ہوں مگر یہ شیر مجھے نہیں بخشے گا۔ ۔ ۔ ۔ ایسا ہی ہوا۔ وہ شیر سارے قافلے کو پھلانگتا ہوا سیدھا عتیبہ کی طرف جھپٹا اور دیکھتی آنکھوں اس نے عتیبہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔

پاکستانیوں کے لئے غزوہ خندق میں بہت بڑا سبق ہے




  
کتاب 'اسلام اور عصر حاضر


Friday, August 17, 2012

کڑوے حقائق