زیارت النبیؐ بحالت بیداری- مکمّل کتاب

گذر گیا اب وہ دور ساقی، کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہاں میخانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہوگا

ہمیں پاکستان بچانا ہے جمہوریت نہیں

پاکستان کے مسائل کا واحد حل اسے خلافت راشدہ پاکستان بنانے میں ہے. جمہوریت الله کی بادشاہت کے خلاف اعلان جنگ ہے ، ہمیں پھر سلہوددین ایوبیؒ کی ضرورت ہے جو اجتہاد اور جہاد دونوں ہی کے فنون کا ماہر اور کردار کا غازی ہو

ہمیں سلاھددین ایوبیؒ ہی چاہییں

پاکستان پر اب وہ ہی حکومت کرے گا جو الله کا ولی اور درویش بھی ہو اور مجاہد بھی، جو مجد٘د بھی ہو اور سپہ سالار بھی، جو مسکینوں کی داد رسی کرنے والا اور ظالموں کی گردن اڑانے ولا ہو، الله کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے، دین و دنیا دونوں کے علوم میں مہارت رکھے، بلند کردار اور اور سخن دلنواز ہو، عاشق رسولؐ اور الله کی تلوار ہو

دریاۓ سندھ سے دریاۓ آمو تک

جناب زائد حمد کی افغان جہاد کی یادداشتوں پر مبنی اچھوتی کتاب پر ایک مختصر اور جامع تجزی

ادب رسولؐ اور عشق رسولؐ

ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

رسولؐ الله کے چند نام مبارک جنھیں شاید آپ نے پہلے نہ سنا ہو

ان ناموں کے جان لینے ک بعد قران پاک کے مفہوم و معانی کا بہر بیکراں کھل کر سامنے آجاتا ہے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پاکستان کے بارے میں بشارت اور سنہرا دور

پاکستان کے خلاف جو بھی کام کرے گا اپنے خاندان سمیت تباہ کر دیا جاۓ گا

Showing posts with label ذرا سوچیے. Show all posts
Showing posts with label ذرا سوچیے. Show all posts

Tuesday, June 18, 2013

امریکی بسکٹ


Saturday, January 19, 2013

Friday, November 30, 2012

عالمِ اَمن…اور اَمن ِ عالم

ڈاکٹر اظہر وحید

ہم میں سے ہر شخص ایک دوسرے کے حقوق کی امانت اٹھائے ہوئے ہے … جب تک ان امانتوں کوپوری دیانت داری سے ہم حقداروں کو لوٹانہیں دیتے ‘ امن ِ عالم ایک خواب کاعالم رہے گا۔حق دار کو حق لوٹانا‘ کسی قانون یا سزا کے ڈر سے نہ ہونا چاہیے … کہ نیت میں اگر خیانت دَر آئے گی ‘ توقانون میں ترامیم بھی دَر انداز ہوتی چلی جائیں گی ۔جب تک نیت میں دیانت کو جگہ نہیں ملتی … کسی حقدار کو اس کی امانت نہیں ملتی۔ ایک بدیانت شخص اپنے اردگرد بہت سی محرومیوں کا باعث بنتاہے… اورچھوٹی چھوٹی محرومیاں ‘بڑے بڑے جھگڑوں کاسبب بن جاتی ہیں ۔

قیام ِ امن کاپہلا جنیوا … ایک فرد ہے ‘جسے ایڈریس کیے بغیر عالمی امن کا کوئی کنونشن کامیاب نہیں سکتا۔ فردکو پُرسکون کرنا‘معاشرے کو امن کی بنیاد فراہم کرناہے۔ حالت ِ امن کا قائم ہونا … کسی انقلاب کے برپا ہونے سے کم نہیں… اوریہ اِنقلاب سب پہلے ایک فرد کے قلب میں رُونما ہوتاہے ۔

کوئی فرد ہو‘یا قوم…جب تک احساسِ تفاخر سے باہر نہیں نکلتی… اَمن سلامت نہیں رہ سکتا۔ دوسروں سے بالا ہونے کا احساس خود کو قانون سے بالاترسمجھنے پر مجبور کر دیتاہے۔ احساسِ تفاخر ایک زعم کے سوااور کیاہے… اور کتابِ معنی میں زعم اور وہم … سراب کے ہم معنی ہیں۔زعم … حسب کا ہو یا نسب کا … 
حقیقت میں عالی ہونے کے باوجود… حقائق سے دُور لاپھینکتاہے۔ کسی زعم میں مبتلا انسان کہیں کانہیں رہتا۔وہ انسانوںکی دنیا سے دُور خود پسندی کے ایک ایسے جزیرے میں بن باس لے بیٹھتا ہے جہاں تنہائی اُسے مزید تنہاکر دیتی ہے ۔ وہ جسے ہم اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں ‘ اگر اُس کا وجودمٹ جائے تو ہم نامکمل رہ جاتے ہیں۔ہمارے وجود کی وحدت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک باہر موجود کثرت سلامت نہ ہو۔ زعم کیلئے نہ کوئی مرتبہ وعلم ہی دلیل ٹھہرتا ہے اور نہ دولت اور عقل ہی حجت قرار پاتی ہے۔مرتبہ ‘دولت ‘ علم اورعقل دراصل درجہ بدرجہ ذمہ داریوں کی دلیلیں ہیں۔اگرکوئی مرتبے میںعالی ہے تو وہ کمتررُتبے میں رہنے والوں کی خدمت کرے …اگرکوئی دولت میںدوسروں سے بڑھ کر ہے‘ تووہ بڑھ کراپنی دولت میں غریبوں شامل کرے …اگرکوئی علم و عقل میں عالی ہے تو وہ جاہلوں کی بے عقلی خندہ پیشانی سے برداشت کرے ۔ اپنے سے کم رتبہ لوگوں کی سب سے پہلی خدمت یہ ہے کہ اُن کے ساتھ تواضع سے پیش آیا جائے ۔ تواضع … دوسروں کی عزت ِ نفس کا احترام کرنے کوکہتے ہیں۔ تکبر … دوسروں کی اَنا کواپنے مرتبے کے بوٹوں تلے روندتے چلے جانے کانام ہے… مگر اپنے سے کم تر کا خیال رکھنے کی یہ سب باتیں اُسے ہی نظر آتی ہیں‘ جو اپنے حال اورماضی پر زعم سے نجات حاصل کرچکاہو۔نجات حاصل کرنے کیلئے خود سے لڑنا پڑتا ہے۔ گویا جدوّ جہد کا آغاز اپنے گھر سے ہوتاہے۔جو اَپنے اندرخود سے لڑتارہتاہے … مخلوق اُس سے اَمن میں رہتی ہے…اور جو اپنے اندر شکست کھاجاتاہے ‘ اُس کی لڑائی باہر بازاروں اورچوراہوں پر آجاتی ہے۔

آج کل اِصلاح کے نام پراَمن کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔مشرق … مغرب کی اصلاح کرنا چاہتاہے اور مغرب … مشرق کو سبق سکھانا چاہتاہے … غالباً تہذیب کاکوئی سبق … یوں مشارق و مغارب باہم متحارب ہیں۔ سورج آسمان کا ہو‘ یا تہذیب کا … مشرق سے اُبھرتاہے اور مغرب میں غروب ہوتاہے۔ درحقیقت خود کو اصلاح یافتہ سمجھنا بھی ایک درجۂ غرور ہے۔ دوسروں کی اصلاح کرنے کا دعویٰ کرنے والا خود اصلاح یافتہ ہونے کے زعم میں
مبتلاہوتاہے۔


اَمن کی تمنا ایک خواب رہے گی جب تک طاقتور کمزور کا احترام کرنے کی تہذیب سے آشنانہیں ہوجاتا۔ امن ِ عالم اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا‘جب تک انسان دوسرے انسانوں کی عزت ِ نفس کوتقدیس اور تکریم کی نگاہ سے دیکھنے کا عادی نہیں ہو جاتا۔ دراصل جھگڑا شروع ہی اس وقت ہوتاہے جب کسی فریق کو شبہ ہوجائے کہ اس کی توہین کی جارہی ہے ۔ دوسروں کی توہین کرنے کا سبب … غرور ہوتاہے یا کوئی تعصب ۔ درحقیقت تعصب بھی ایک درجۂ غرور ہے … اپنی قوم قبیلے پر غرہ… اپنے قبیلے کی زبان ‘ رنگ ‘ نسل اورتہذیب پر غرور!! ہر مغرور شخص دوسروں کی توہین کا مرتکب ہوتاہے ۔ جھگڑا ختم کرنے کا ایک تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ دوسرے فریق کو ہر طریقے سے یہ باور کروادیا جائے کہ وہ قابل ِ عزت ہے۔ اپنی اَناکا بت منہ کے بل گِرا دیا جائے تو جھگڑا کھڑانہیں ہوتا۔ 

جھگڑا ہمیشہ اپنی اَنا کا گھوڑا آگے بڑھانے پر ہوتاہے …یہ جھگڑا پہلے بھی تھا اور یہی آج بھی قوموںاور قبیلوں کے درمیان جنگ کا باعث ہے ۔فرد ‘فرد کا اور قوم‘ قوموں کااِحترام کرنا سیکھ لے … عالمی اَمن قائم ہو جائے گا۔ بصورتِ دیگر ‘اَمن … بقول مرشدِ صادق حضرت واصف علی واصف ؒ …دوجنگوںکے درمیان وقفے کانام رہے گا۔

انسان عظیم ہے …اِ سلیے اس کیلئے طاقت کا حصول ہی کافی نہیں … اِسے عظمت بھی چاہیے۔ کسی عظمت کے بغیرطاقت ‘ غرور کا ایک ابولہول ہے۔غرور مہذب دنیامیں غیر مہذب ہونے کاایک چلتاپھرتااشتہار ہے۔ طاقت اپنی عظمت کو نہ پہنچے تو بجائے عزیمت کے ہزیمت کوپہنچتی ہے۔ طاقت میں عظمت اُس وقت آتی ہے ‘جب یہ جھکنے کا فن سیکھ لیتی ہے۔ طاقت کی عظمت ‘ اِس کا عجز ہے۔ عجز‘ علم ہے… تکبر‘جہالت !!
علم … روشنی ہے … مگر یہ جس قندیل سے نکلتی ہے اسے محبت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا علم‘ محبت کی قندیل سے تعلق قائم کرناہے … اور سب سے بڑاجہل‘ شمعِ محبت سے رُگردانی کرناہے۔ محبت سے محروم ہونا … علم سے محروم ہوناہے۔محبت سے محروم انسان تعصب اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتاہے۔ محبتوں اور محبوبوں کامنکر ‘ جاہل ِ مطلق ہوتاہے۔ محبت ایک ولایت ہے … اور یہ ولایت انہیں عطاہوتی ہے جو ہر غرض سے پاک ہوتے ہیں۔ بے غرض انسان حالتِ امن میں ہوتاہے اور اُس سے اَمن ِ عالم کوکوئی خطرہ نہیںہوتا۔ نفرت ‘ حسد ‘بغض اور کِبر… انسانی نفس کی متفرق اور متکثراغراض ہیں … اور انہی اغراض ومقاصد کا ٹکرائو ‘جنگ کا طبل ہے۔محبت … وحدت ہے۔ نفرت… تکثیر … بلکہ وحدت کی تکفیر! محبت جمع کرتی ہے … نفرت … تقسیم در تقسیم ! نفرت … بھائیوں کے درمیان پہلے دیوار کھینچتی ہے … پھر تلوار !!

وسائل پر تصرف کی اندھی خواہش انسان کو طاقت کی لاٹھی گھمانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اپنے اندر قناعت اور سکون کی دولت سے محروم ہوجانے کے سبب افراد اور اقوام ایک دوسرے کے ساتھ بے سمت اور بے مصرف مقابلے میں مصروف ہیں…یہی مقابلہ مجادلے سے ہوتاہوا مقاتلے تک پہنچتاہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ ہم نے باہم مقابل اور متحارب رہنے کانام ’’عمل ‘‘ رکھ لیا ہے۔ گویا ہماری ’’عملی زندگی‘‘… عملی طور پر مسلسل جنگی جنون میں مشغول رہنے کانام ہے ۔ جنگی جنون میں مبتلا ہونا … شعور سے نکل کر شور اور شورش میں مبتلا ہونا ہے ۔ قوموں کے درمیان وسائل پر جھگڑاتصادم کی شکل اختیار کر لیتاہے… اور تصادم میں سب سے پہلے جس چیز کا خون ہوتاہے ‘ وہ انسانی وقار ‘ عقل اور شعورہے۔ جب تک حالت ِ اَمن اندر نافذ نہ ہو … باہر اَمن کی حالت کا نفاذ ممکن نہیں۔ باالفاظِ دیگر جنگ وجدل سے نجات‘ خواہش سے نجات حاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔
اَمن … امان دئیے بغیر ممکن نہیں … اور اَمان ایک طاقتور ہی کمزور کو دے سکتا ہے … یوں قیام ِامن کی ذمہ داری ہمیشہ طاقتور کے سرہی رہے گی۔ اَمان… معافی اورخدمت کی طرح غیرمشروط ہوتا ہے۔ مشروط امان کو باجگزاری کہتے ہیں… مشروط خدمت کا نام تجارت ہوتاہے۔ اَمن کا قیام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طاقت کی تلوار تہذیب کی نیام میں ڈالنے کی تمنا بیدار نہیں ہوجاتی۔
اَمن کاخرمن… بِیا کاگھونسلہ ہے … برداشت اور رَواداری کا تنکا تنکا جمع کرنے سے بنتاہے۔ایک شعلۂ استکبار … اَمن کے خرمن کو جلاکر راکھ کر دیتاہے۔

اِسلام … ا کا سلام ہے ‘مخلوق کے نام ! السّلامُ علیکم… سلامتی کا پیغام ہے … اگر کوئی قبول کرے!!کتنی بڑی رحمت کابادل انسانیت کے سروں پر اُمڈآیا تھا اُس روز… جب رنگ‘ نسل اورزبان کے تعصبات یک قلم مٹی میں ملا دیئے گئے تھے… … جبلِ رحمت پررحمت ِ عالم مجسم ہو گئی تھی… پوری انسانیت کیلئے پیغام ِ رحمت … امن ‘ سکون اور سلامتی کا پیغام ‘عرفات کی فضائوں اور ندائوں کو عطر بیز کر رہا تھا۔ عالمِ انسانیت میں یہ کس شان کی وحدت تھی اور کیسی وحدت کی شان تھی کہ رنگ ‘ نسل اور زبان کے فخرو مباہات اور تعصبات… وقوفِ عرفات کے روز موقوف ہو گئے۔

 اِستحصال کا ہر ممکنہ پہلو قلم زد کر دیاگیا… سُودکاتمام کاروباربلاتخصیص ِسُود وزیاں قلم زد کر دیا گیا۔اَمانتوں کو اُن کے حقداروں تک پہنچانے کاحکم فی الفورنافذ کردیاگیا۔ آج اِنسانی مذاہب کی تاریخ نے اپنے صفحات میں ایسی لبرل بات محفوظ کرلی ‘ جو کُل عالمِ اِنسانیت کیلئے یکساں قابلِ قبول بھی ہے اور قابلِ عمل بھی ! بانی ٔ دینِ مبیں ؐایک عام مسلمان کی جان‘ مال اور آبرہ کو ہر مقدس دن ‘ مقدس مہینے اور مقدس شہر کی طرح محترم قرار دے رہیں ہیں۔ اس سے پہلے انسانی لہو معبدوں کی حرمت پر بہتا چلا آیاتھا۔آج دُنیا ئے عالم کے مذاہب کی تکمیل اِس بات پر ہو رہی ہے کہ انسان کی حُرمت اُولیٰ ہے … انسان ہی لائقِ تقدیس ہے …انسان کی تکریم اَولیٰ ہے۔ آج فکر ِ انسانی کو نیا رُخ دیا جاتاہے … انسان مقدم ہے اور ہر وہ چیز مؤخر … جو انسان کی تکریم کی راہ میں حائل ہے … یہاں تک کہ نماز باجماعت حاصل کرنے کیلئے بھی دوڑ کر شامل ہونے کی ممانعت ہے …کہ دوڑ خواہ کیسی ہی ہو‘ اِنسانی وقارکے منافی ہے۔
خطبہ ٔ حجتہ الوداع ہر دورمیں پوری انسانیت کیلئے اَمن کاپیغام ہے ۔
 
 یہ اَمن وسلامتی کا پیغام‘ اَمن ِ عالم کی ضمانت ہے … اُس ذات کی طرف سے ‘جو رحمت اللعالمین ؐ ہے …محبو ب ِ ؐربّ العالمین ہے۔ اِس لیے جو قوم بھی اِس پیغامِ اَمن کو … جس کی روح امانت ‘ دیانت ‘ انصاف اور انسان کی قدر شناسی ہے… اپنی روحِ عمل کا حصہ بنائے گی ‘وہ اَمن و سلامتی کے ثمرات سمیٹ لے گی

Wednesday, October 3, 2012

Friday, August 17, 2012

ضیاء شہید کی برسی کے موقع پے

یہ پیغام آج بھی اتنا ہی موزوں برمحل ہے جتنا کے کل تھا

کڑوے حقائق


Thursday, August 9, 2012

کیا "لاپتہ افراد" واقعی لاپتہ ہیں؟

از محمد عبد الحمید

جبگ/جیو کے حامد میر نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ میڈیا کے لوگ صرف 10 فی صد سچ بولتے ہیں، میرے سمیت۔ حامد میر ہی "لاپتہ افراد" کے معاملہ میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ اس معاملہ میں وہ کتنا سچ بول رہے ہیں؟
"لاپتہ افراد" صرف بلوچستان ہی میں کیوں ہیں؟ بات یہ ہے کہ دوسرے صوبوں میں دہشت گردی ہوتی ہے، جس میں لوگ مرتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں، لاپتہ نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں لاپتہ ہونے کی وجوہ میڈیا تلاش نہیں کرتا کیونکہ نہ مالک اس کی اجازت دیتے ہیں، اور نہ انھیں ڈالر دینے والا امریکہ۔
بلوچستان میں نہ حقوق کا مسئلہ ہے اور نہ احساس محرومی کا۔ حقوق کا مسئلہ تو موجودہ حکومت نے 18 ویں ترمیم سے ختم کر دیا۔ صوبوں کو اتنے اختیارات دے دیئے کہ وہ استعمال ہی نہیں کر پاتے۔ انھیں یہاں تک اختیار مل گیا کہ رشوت لے کر درسی کتابوں میں جو چاہیں ملک دشمن مواد شامل کر دیں (جیسے مشرقی پاکستان میں ہوا کرتا تھا) اور اپنی جیبیں بھر کر تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے ٹھیکے جن غیرملکی کمپنیوں کو چاہیں دے دیں۔  
احساس محرومی بھی لوٹ مار کا بہانہ ہے۔ پچھلے سالوں میں سینکڑوں بلین روپے بلوچستان کو دیئے گئے۔ موجودہ حکومت نے صرف اس سال 145 بلین روپے دیئے۔ وہ کہاں گئے؟ صوبہ کی کل آبادی اکیلے ضلع لاہور سے بھی کم ہے لیکن احساس محرومی ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔
دراصل، یہ سب امریکہ کے کہنے پر تراشے گئے بہانے ہیں۔ امریکہ بلوچستان کو علیحدہ کرا کے نیا ملک بنانا چاہتا ہے، جیسے اس نے سوڈان کا جنوبی حصہ کاٹ کر ایک نیا ملک، جنوبی سوڈان، بنوا دیا۔ (سوڈان کا 97 فیصد تیل جنوبی سوڈان سے نکلتا ہے۔) بلوچستان میں تیل، گیس اور معدنیات کے ساتھ امریکہ کے اور کئی مفادات ہیں۔ افغانستان سے نکل کر یہاں بیٹھنا چاہتا ہے، چین کو گوادر سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے، پاکستان اور ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے اور آبنائے ہرمز کے دہانے کو کنٹرول کرنا ہے (تاکہ جنگ کی صورت میں دشمنوں کو خلیج فارس سے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت وغیرہ سے تیل کی سپلائی روکی جا سکے)۔
چنانچہ امریکہ نے بلوچستان میں اسلم رائیسانی کو وزیر اعلی بنوایا، جسے حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں اور جس کا چھوٹا بھائی، لشکری رائیسانی، امریکی مصنف رون سسکنڈ کے مطابق امریکی، برتانوی اور فرانسیسی خفیہ اجنسیوں کا وظیفہ خوار ہے۔ (اب وہ پی پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے)۔ ایک کے سوا تمام ارکان اسمبلی کابینہ میں ہیں تاکہ خرابیوں پر کوئی انگلی نہ اٹھائے جبکہ وزیر اعلی سارا وقت اسلام آباد میں رہتا ہے۔ (اس کی سوچ ہے کہ وزیر اعلی وزیر اعلی ہوتا ہے، چاہے کوئٹہ میں رہے یا اسلام آباد میں۔)
بلوچستان سے فوج بلا لی گئی، پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت، جبکہ ماضی میں ہر یورش فوجی کاروائی سے ہی دبائی گئی۔ ملک دشمنوں کے خلاف ساری کاروائی ایف۔ سی۔ (فرنٹیئر کانسٹیبلری) کے ذمہ ہے۔ وہ دہشت گردوں کو پکڑ لے تو بھی ان کے خلاف کچھ کر نہیں سکتی۔ تفتیش پولیس کا اور سزا دینا عدالتوں کا کام ہوتا ہے لیکن ان دونوں اداروں کا وجود ہی نہیں۔ صدر پرویز مشرف نے پولیس کا دائرہ کار 5 فی صد رقبہ سے بڑھا کر 100 فی صد کر دیا لیکن اسلم رئیسانی نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اب کوئٹہ کے علاقہ کو چھوڑ کر لیویز کا پھر سے راج ہے، جو سرداروں کی بھرتی کردہ ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت اس کے اخراجات دیتی ہیں۔
"لاپتہ افراد" ہیں کون؟ میڈیا پتہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ لوگ کون ہیں، ان کا اور ان کے کنبوں کا کیا پس منظر ہے، ان کی آمدنی کہاں سے ہوتی ہے۔ اکثر کے تو پتے بھی معلوم نہیں۔ صرف تعداد بڑھانے کے لیئے ان کے نام لکھا دیئے گئے۔ جن کے پتے معلوم ہوئے وہ نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہو چکے تھے، افغانستان جا چکے تھے، کراچی میں کاروبار کرتے تھے یا ویسے ہی روپوش تھے۔ جو امریکی اور ہندوستانی ایجنٹ مقابلہ میں ہلاک ہو جاتے ہیں وہ "لاپتہ" کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ کچھ واقعی تحویل میں بتائے جاتے ہیں، ان سے تفتیش ہو رہی ہے۔ اگر مجرم ہونے کا ثبوت مل بھی جائے تو صوبائی حکومت نہ اپنی تحویل میں لیتی ہے، نہ مقدمہ چلاتی ہے۔ در حقیقت یہ وہ افراد ہیں، جو امریکی سرپرستی میں علیحدگی کے لیئے دہشت گردی کرتے ہیں اور جنھیں رہا کرانے کے لیئے امریکہ بے چین رہتا ہے۔ امریکہ سے امداد اور ہندوستان سے تربیت لے کر کرایہ کے لوگوں سے دہشت گردی کرائی جا رہی ہے۔ امرکی ایجنٹوں کو 500 ڈالر (تقریبا 50 ہزار روپے) مہینہ تک وظیفہ ملتا ہے۔ بگتی، مری، مینگل وغیرہ چند قبائل کے سردار ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ جو یہاں ہیں وہ بھی امریکی سرپرستی میں عیش کر رہے ہیں۔ ایک زین بگتی جب افغانستان کی طرف سے اسلحہ لاتے ہوئے پکڑا گیا تو اس نے پہلا فون امریکی سفارت خانہ کو کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں جب علیحدگی کی تحریک زوروں پر تھی تو بی۔ بی۔ سی۔ کو اس کے لیڈر جیری ایڈمز کا بیان اس کی اپنی آواز میں سنانے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں علیحدگی پسند سرداروں کے گھنٹے گھنٹے کے انٹرویو نشر ہوتے ہیں۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں "لاپتہ افراد" کے لیئے ہونے والا پراپیگنڈہ صحیح ہے، ان سے زیادہ بھولا کوئی نہیں۔ صحافیوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ شور مچائو، چینل اور اخبار مالکوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ علیحدگی پسندوں کے بار بار انٹرویو کرائو، غیرسرکاری تنظیموں کو ڈالر ملتے ہیں کہ مظاہرے کرائو اور دھرنے دو۔ رہی وفاقی حکومت تو اسے ملک دشمنوں کے خلاف کچھ کرنے کی فرصت کہاں۔ رحمان ملک صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ "غیرملکی ہاتھ ملوث ہے۔" اس نامحرم کا نام نہیں لیتے اور نہ اس کا ہاتھ مروڑتے ہیں۔
سپریم  کورٹ کا رویہ بھی حیران کن ہے۔ یا تو اسے حقائق کا علم نہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لیا جا رہا ہے۔ یا پھر سارا جوش و خروش امریکہ کو خوش کرنے کے لیئے ہے۔ فوجی اداروں پر لعن طعن بھی شائد اسی لیئے ہے کہ امریکہ کا ایک بڑا مقصد ہماری فوج کو بدنام کرنا بھی ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ میڈیا سچ تلاش نہیں کرتا، عدلیہ سچ سنتی نہیں اور فوج سچ بولتی نہیں کہ حکومت کے لیئے پریشانی پیدا نہ ہو۔ پھر
        خداوندا، ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں

Monday, August 6, 2012

اے کاش.....

‎
تاریخ گواہ ہے کہ غرور و تکبر کے نشے میں بدمست لوگوں اور ہاتھیوں کا انجام ہولناک ہوا، نمرود سر میں جوتیاں کھاتا مرا تو فرعون دریائے نیل میں غرق ہو کر تاابد نشانِ عبرت بن گیا، شداد، سامری اور قارون جیسے بدبخت نہ رہے مگر ہوسِ زر کا لباس پہنے گورے لوگ آج بھی کالے کرتوتوں میں اُن کے گمشدہ خزانوں کی تلاش میں کہیں ملک و ملت سے غداری کا طوق پہنے در بہ در ہیں اور کہیں صلیبی بادشاہ گروں کے کمین بن کر کاسہ و کشکول لئے تماشہءذلت۔ آج چنگیز خان کی قبر کا کہیں نام و نشان یا اتا پتہ تک موجود نہیں دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والا ہٹلر سائنایڈ کا کیپسول لے کر اپنی محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ قبر میں اُتر گیا تو اُس کے اطالوی حلیف مسولینی کی لاش کو اُسی کی قوم نے کئی دنوں تک شہر کے چوراہے پر لٹکائے رکھا ۔

چشم عالم نے یہ نظارہ ءعبرت بھی بڑی حیرت سے دیکھا کہ شاہ ایران کی لاش کو دو گز زمین کے لئے ساری دنیا گھومنی پڑی اور سانحہء مشرقی پاکستان پر جشن منانے والی بدبخت اندرا اور اُس کے بیٹے ایسے بھیانک انجام کو پہنچے کہ آج تک اُس خاندان کے کسی فرد کو کرسیء اقتدار پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوئی پاکستان میں سوشلزم، اسلام اور کبھی روشن خیالی کے نام پر انقلاب لانے کے دعویدار اور مفلس و مجبور قوم کو بے وقوف بنا کے خون چوسنے والے سیاسی اور فوجی ڈکٹیٹرز میں سے کوئی عدالتوں کے ہاتھوں قتل ہوا تو کوئی امریکی خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں میں حادثات کا شکار، کوئی اپنے پیاروں کے ہاتھوں قتل ہو کر کھربوں ڈالرز چھوڑ گیا تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی میں دھرتی کے قتل کے سودوں اور ریمنڈ ڈیوس کی دلالی سے اربوں کما رہا ہے مگر موت کے خوف سے وطن سے دور گوری گود میں بیٹھا یہود و نصاریٰ کی دھنوں پر برہمنوں کے راگ الاپتا ہے۔


اللہ کا نظام اور سیاست دانوں کی اپنے ہی خون سے بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ یورپی بینکوں میں اربوں ڈالرز کی مالکہ بیگم نصرت بھٹو اپنی یاداشت کھوئے سانس کی مصنوئی مشین پرحالت کومہ میں رہی مگر اس کا کوئی پیارا کبھی اس کی خبر گیری کے لئے نہیں جاتا تھا مگر دوسری طرف اسکی شہید بیٹی سے لازوال محبت کا دعوی کرنے والا اسکے مقدمہءقتل کو طوالت دینے میں مصروف شوہر نامدار نا جانے کس کیلئے کھربوں ڈالرجمع کر رہا ہے، شاید اپنے اس شہزادے کے لئے جسکی سیکورٹی، لندن میں گوری تتلیوں اور رنگ رنگیلیوں کے لئے ماہانہ کروڑوں ڈالرز درکار ہیں یا پھر فرعون اور قارون کی طرح ہوس زراُس بامِ عروج پر پہنچ چکی کہ جس کے بعد کائنات کے اصل مقتدر اعلیٰ کے آئین ِ قدرت کا وہ سپریم آرڈر آتا ھے جسے کسی عدالت، این آر او یا اٹھارویں ترمیم کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور پھر ہوتا وہی ہے جو میر جعفر، میر قاسم اور میر صادق کے ساتھ ہوا۔ پانچ ہزار روپے ٹیکس دینے والے کھرب پتی صنعتکار سیاست دان کابیٹا لندن ہسپتال میں جان لیوا مرض اور بیگم بوجہ عارضہ قلب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، بھائی صاحب طوفانی دوروں کے دوران اچانک ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور کبھی خود کا درد دل اپنے دوستوں کے وطن ولایت کے ہسپتالوں کے سرجری بستر پر لے جاتا ہے لیکن ہوسِ زر اور ہوس ِ ترامیم کا طوفن زہر کی طرح روح کی گہرائیوں تک سرایت کر چکا ہے۔ میاں صاحب کے رائیونڈ پیلس کا ماہانہ خرچہء مہمانداری و سیاست پندرہ کروڑ روپے ہے مگر پڑوس میں غریب فاقہ کش اپنے بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہیں مگر خادم اعلیٰ کی سستی روٹی سکیم سے کئی مہنگے ترین عالی شان بنگلوں کا خرچ چلتا رہا ہے۔

ق قینچی لیگ کے وڈے پاجی چوہدری شجاعت حسین کو زندگی کےلئے صرف بیس روپے کی مالیت کے انسولین انجکشن چار ٹائم درکار ہیں لیکن لینڈ مافیہ اور بینک کرپشنز سے اربوں ڈالرز کما کر بھی ان کی لالچ اور طمع کا پیٹ نہیں بھر پایا۔ ہائی بلڈ پریشراور عارضہ قلب کے مریض اور ہرسرکار کے مشیرِجمہوریت مولانا فضل الرحمن ڈیزل صاحب اربوں کما کر مزید کھربوں کمانے کو کسی بھی لوٹے اتحاد اور قتل ِ وطن کی ہر سازش میں اپنا پر اسرارمذہبی اور آئینی کردارادا کرنے میں ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ساری زندگی ایمانداری اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان نے کرپشن اور لوٹا کریسی کے سب ریکارڈ توڑنے والوں کو ہی ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دے کراپنی اننگ کے بیٹنگ پاور پلے میں جارحانہ اندازاختیار کیا تھا شاید وہ سمجھ گئے ہیں کہ لینڈ مافیہ، جاگیرداروں اور طاقتور امیدواروں کے بغیر الیکشن میں جیت تو درکنار الیکشن لڑنا ہی نا ممکن ہے۔ عین سچ تو یہی ہے کہ وہ پی پی پی ہو، ن لیگ، ق لیگ جیسے مفاد پرست سیاسی عناصر ہوں، صلیبوں کے آلہ کار دین فروش علماءسیاست ہوں یا متحدہ قومی موومنٹ یا پیر صاحب پگاڑا جیسے سامراجی کٹھ پتلی پریشر گروپس۔ ایک دن یہ سب ایک دوسرے کیساتھ دست و گریبان ہوتے ہیں مگر دوسرے دن اپنے سامراجی آقاؤں کے حکم اور خواہش کے عین مطابق جاسوس قاتل ریمنڈ ڈیوس کی ڈیل کروانے یا مفلسان ِقوم پر وار کے لئے خونخوار آلہء قتل یعنی سیاسی بندر بانٹ کے عالمگیر نظریہءضرورت کے تحت کہیں پراسرار حریف و حزب الاختلاف اور کبھی ہر دور میں اقتدار سے چمٹے کرپشن میں حصہ دارحلیف و حزب الاقتدار بن کرایک ساتھ ہوتے ہیں۔

اے کاش ملک و ملت کے یہ نام نہاد خدام اور پیشہ ور سیاسی بہروپیے تاریخ کے وہ صفحات پڑھ لیں جن پران جیسے ان گنت ابن الوقت قوم فروشوں ، بازار ِ سیاست کے بے ضمیر لوٹوں غدارانِ ملک و ملت اور مریضانِ ہوس ِ زر کا بھیانک اورعبرت ناک انجام صاف صاف لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔

ہر دور ِ طاغوت اور ظلمت کی تاریخ لکھی ہے قدرت نے
درویش پھڑے جد رب میرا، مُڑھ کڈھ کڑاکے دیندا اے

Saturday, August 4, 2012

Saturday, July 28, 2012

عالمی طاقت کی بےبسی اور انھیں خدا ماننے والے



تاریخ کا یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ ایک عالمی طاقت جو خود کو واحد عالمی طاقت سمجھتی ہو جس کے ہتھیاروں کی تکنیکی خوبی ایسی ہو کہ اس کی گرد کو بھی کوئی نہ پہنچ پاتا ہو، وہ چند ہزار طالبان کے ہاتھوں اس قدر بے بس ہو جائے کہ اپنی ناکامی اور خفت کا ملبہ ایک ایسے ملک میں "بسنے والے" تین یا چار ہزار حقانی نیٹ ورک کے لوگوں پر لگا دے. یہ "بسنے والے" میں نے اس لیے لکھ دیا ہے کہ یہ امریکہ کا کہنا ہے ورنہ جس نے افغانستان دیکھا ہے اسے علم ہونا چاہئیے کہ کابل کے الٹرا ریڈ زون تک شمالی وزیرستان سے جا کر پہنچنا کسی عقلمند کا کام نہی.... یہ تو ہونا تھا اس لیے کہ آج سے گیارہ سال قبل جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا تھا تو میرے ملک کے طاقت کے پجاری اور مادی وسائل کو خدا سمجھنے والے دانشور، ادیب، سیاستدان اور جرنیل بھی یہی کہتے تھے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا ہے. افغان نہتے اور بے وسائل لوگ ہیں. یہ درختوں پر بیٹھے پرندوں کی طرح مرے جائیں گے
ایسے میں پورے ملک میں میرے جیسے چند "بیوقوف" لوگ بھی تھے جو کہا کرتے تھے کہ دیکھو اس کائنات میں ایک اور طاقت بھی ہے جو اس کی فرمانروائے مطلق ہے اور جو کوئی صرف اور صرف اس پر بھروسہ کر لیتا ہے پھر یہ اس واحد و جبار کی غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ اسے ذلت و رسوائی سے بچائے. آج موجودہ دنیا کی تاریخ میں واحد افغان قوم ہے جو سرخرو ہے. کسی قوم کے سینے عالمی طاقتوں کو شکست دینے کے اتنے زیادہ میڈل نہی سجے جتنے اس قوم کے سینے پر آویزاں ہیں

 
امریکہ اپنی شکست کا بوجھ اس پاکستان پر ڈال رہا ہے جس کے سیاستدان، دانشور، سول سوسایٹی حتی کہ جرنیل ان کے ٹکڑوں پر پلنے کو فخر سمجھتے رہے ہیں. اس وقت میرے ملک میں دو گروہوں میں جنگ ہے. ایک وہ جو سر تا پا الله پریقین رکھتے ہیں اور دوسرا وہ طبقہ ہے جو قوم کو ڈرا رہا ہے. یہ سول سوسایٹی کے فیشن زدہ لوگ اور طاقت کے مندر میں سجدہ ریز دانشور کمال کی گفتگو کر رہے ہیں... دیکھو باز آ جاؤ انتہا پسند چھا جائیں گے....واہ جو امریکہ سے لڑے گا وہی چھائے گا کبھی بزدل بھی چھائے ہیں؟

 
ایک اور منطق اور درف طنی چھوڑی جا رہی ہے. امریکہ وہاں رہے گا جائے گا نہی، کیا خوش فہمی ہے. میرے یہ عظیم دانشور اور سول سوسایٹی کے مہربان جو اس ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں کسی انسان کی مدد کرتے تو نظر نہی آتے، امریکہ کی جنگ لڑنے میڈیا میں موجود ہیں. یہ کمال کے لوگ ہیں. جن دسمبر 1979میں روس افغانستان میں داخل ہوا تھا تو یہ اس ملک کی سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے تھے. وہ دیکھو سرخ پھریرا سرحد عبور کرنے والا ہے، تمہاری داڑھیاں نوچ لی جائیں گی اور سارا انقلاب ہوا کی طرح اڑا دیا جائے گا. کیسے کیسے مضمون لکھے گئے. کیسی کیسی نظمیں تحریر ہوئیں، سرحدوں پر انقلاب کے سویرے کی نوید سنائی گئی. لیکن ان سب کو کیا ادراک کہ پاکستان کے ساتھ ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو صرف اور صرف الله پر اعتماد کرتی ہے. میں سوویت یونین کی ذلتوں کی داستان بیان نہی کرنا چاہتا. اس ملک ہی نہی پوری دنیا کی سڑکوں نے اس عالمی طاقت کو یوں رسوا ہوتے دیکھا کہ پورے یورپ میں صرف عظیم سوویت یونین کی لڑکیوں کا جنسی کاروبار سالوں تک ہوتا رہا اور آج بھی جاری ہے.. جس امریکا کو وہ کمیونسٹ پچھتر سال گالیاں دیتے رہے اسی کے دروازے پر بھیک کے لیے کھڑے نظر آنے لگے
یہ لوگ بھی کمال کے ہیں. اگر چی گویرا بولیویا سے کیوبا جا کر لڑے تو ہیرو، اگر فرانس کے لوگ جرنل گیاپ کے ساتھ جا کر ویتنام میں کاروائیاں کریں تو عظیم. اگر سارتر الجزائر جا کر لڑے تو عظیم انقلابی. لیکن اگر کوئی الله پر یقین رکھے اور فلسطین، بوسنیا، چیچنیا یا افغانستان کے مظلوموں کی مدد اور عالمی طاقتوں کے خلاف لڑے تو دہشتگرد، امن و امان تباہ کرنے والا . کیا عجیب منطق ہے. ان سب کو اب کچھ سجھائی نہی دے رہا

Friday, July 27, 2012

قادیانی پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں کس طرح رکاوٹ بنتے رہے؟ ڈاکٹر عبدالقدیر کے اہم انکشافات

قادیانی پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں کس طرح رکاوٹ بنتے رہے؟ ڈاکٹر عبدالقدیر کے اہم انکشافات






Thursday, July 26, 2012

ہمارے وجود میں عوام کی رائے بولتی ہے۔

‎
 

عوام کے ان منتخب نمائندوں میں کتنے ایسے ہوں گے جن سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ نیٹو(NATO) کس چیز کا مخفف ہے تو حیرت سے ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے، ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں گے، کوئی بڑھ کر جواب مانگے تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگیں ۔ اگر ان پانچ سو کے قریب جمہوریت کے پرچم برداروں میں سے چند ایک یہ کہہ بھی دیں کہ یہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنازیشن ہے تو پھر ان ان "صاحبان علم" سے یہ پوچھا جائے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیوں اور کب وجود میں آئی تھی ۔ اس کے مقصد کیا تھے؟ اس میں کتنے لوگ شامل تھے تو جواب دینے والوں کی لسٹ اور مختصر ہو جائے گی ۔ یہ لوگ جو اس قوم کے فیصلوں کے مالک اور اس کی تقدیر لکھنے کے ذمہ دار ہیں جو ووٹ دینے اور ہاتھ اٹھانے میں ویسا ہی رویہ رکھتے ہیں جیسا آغاز پاکستان کے زمانے میں ایک بوڑھے کا تھا۔ واقعہ یوں تھا کہ ممتاز دولتانہ جو مسلم لیگ کے رہنما اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی تھے، ایک جلسے سے خطب کر رہے تھے، سامنے بیٹھے ہوے ایک بوڑھے نے دوسرے سے سوال کیا کہ یہ کون شخص ہے جو تقریر کر رہا ہے ۔ اس نے جواب دیا یہ ممتاز ہے، اس نے پھر پوچھا کون ممتاز ۔ بوڑھے نے جواب دیا "یارے(یار محمد دولتانہ) دا پتر "۔ دوسرے بوڑھے نے جوش میں آ کر کہا "یارے دا پتر ہے تو زندہ باد". لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں تو یہ تک نہی پتا کہ یہ "یارے دا پتر" یعنی نیٹو کیا تھا، کیا ہے اور کیا چاہتا ہے۔


شاید ہی کسی کو علم ہو کہ جنگ عظیم دوم میں کروڑوں لوگوں کا خون بہانے کے بعد جب اتحادی افواج کو فتح نصیب ہوئی تو اس کے بعد امریکہ، کینیڈا اور آٹھ یورپی ممالک نے نیٹو معائدے پر دستخط کیے۔ یہ اتحاد ان تمام ملکوں نے اپنے اتحادی اور دوست روس کے خلاف بنایا تھا جس کی افواج نے انھیں جنگ عظیم دوم جیتنے میں مدد کی تھی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اگر ہٹلر کی افواج روس کی جانب رخ نہ کرتیں تو جنگ عظیم دوم کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

یہ امریکہ اور یورپ کا اپنے عظیم محسن، دوست اور اتحادی کے خلاف اتحاد ان کی سرشت میں چھپی بے وفائی اور منافقت تھی ۔ یہیں سے سرد جنگ کا آغاز ہوا جس کا انجام تب ہوا جب روس نے طاقت کے نشے میں افغانستان پر قبضہ کیا اور نہتے افغانوں نے اسے شکست فاش دی ۔ یہ وہی مجاہدین تھے جنہیں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے امریکہ کے بانی قائدین کا ہم پلہ قرار دیا ۔ روس کے اس اتحاد کے مقابلے میں وارسا پیکٹ نامی ایک تنظیم بھی بنائی گئی تھی جس کے ممبر ممالک بعد میں نیٹو میں شامل ہو گئے۔

اب نیٹو نے اپنے دوسرے اتحادی، دوست اور ساتھی سے غداری کی ٹھانی ۔ جب سرشت میں بیوفائی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اس بار وہ مسلمان مجاہدین تھے ۔ روس نے ہٹلر پر فتح کے لیے مدد کی تھی اور مسلمان مجاہدین نے روس کے خلاف فتح حاصل کی تھی۔

پاکستان ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جس نے نیٹو کی پہلی بیوفائی یعنی روس کے خلاف جنگ میں اس نے ساتھ دیا اور پھر اپنے ہی بھائیوں اور پڑوسیوں کے خلاف بیوفائی میں بھی نیٹو کا ساتھ دیا۔
یہ بدقسمتی اور بھی شدید ہے اور نامہ اعمال اور بھی سیاہ۔

ہم نے اپنے ایک مسلمان بھائی اور پڑوسی کو پہلے ایک غاصب طاقت اور حملہ آور ملک روس سے نجات دلانے میں مدد دی۔ ہم الله کے ہاں بھی سرخرو تھے اور پڑوسی کی نظر میں بھی عزت دار، ہمیں اس مدد کے عوض چند روپے میسر آ گئے لیکن ہماری غیرت کو دولت کا ایسا چسکا پڑا کہ ہم نے اسی ملک پر قبضے کے لیے، اس کی آزادی سلب کرنے کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی ۔ ستاون ہزار دفعہ جہاز ہماری سرزمین سے اڑے اور انہوں نے وہاں موجود ہمارے مسلمان بھائیوں کے گھروں کو تباہ و برباد کیا اور ان کے جسموں کے پڑخچے اڑا دیے ۔ ہمارے نامہ اعمال اور فرد جرم میں یہ سب لکھا گیا ۔ ہم نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کی اس حدیث کا انکار کیا کہ مسلمان ایک جسد واحد ہیں ۔ اگر ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو گا تو پورے جسم کو تکلیف ہو گی ۔ ہم نے اس حدیث مبارکہ کا بھی انکار کیا کہ جس نے پڑوسی کے کتے کو بھی ایذا دی اس نے پڑوسی کو ایذا دی۔ مسلمان تو دور کی بات ہم نے انسانی تاریخ کے اس مروجہ اصول پر بھی لعنت بھیجی کہ کسی قوم پر جب کوئی بڑی طاقت بلکہ بہت سی طاقتیں چڑ دوڑیں تو اخلاقا اس کا ساتھ دینا چاہیے ۔ ہم سے تو وہ بے دین ادیب اور شاعر بہتر تھے جو اس طرح کے ظلم پر مضمون تحریر کرتے تھے اور شاعری لکھتے تھے۔

اب ایک دفعہ پھر ہم اپنے فرد جرم پر قوم کی مہر لگانے جا رہے ہیں ۔ یہ ہے جمہوریت کا کمال جس کو نیٹو کا مطلب بھی نہی آتا وہ بھی اس کے حق میں ووٹ دیتا ہے ۔ جب فیصلہ ہو جاتا ہے تو اگر کوئی شکایت کرے کہ یہ تو غلط ہوا تھا تو جواب دیا جاتا ہے کیوں ووٹ دے کر بھیجا تھا ۔ مت دیتے ووٹ، اب ہم اٹھارہ کروڑ کے نمائندے ہیں ۔ ہم بیشک پورے ملک کو بیچ دیں، ہمیں اختیار ہے کیوں کہ ہمارے وجود میں عوام کی رائے بولتی ہے۔

☀▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬☀

اماں بھائی کب مرے گا؟

 

اماں بھائی کب مرے گا؟ 

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ خانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔

ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔

ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی

"اماں بھائی کب مرے گا؟

ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"
بچی معصومیت سے بولی

"ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!"

اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔

پچھلے دنوں ایک تاجر نے ایک مزار پر دس لاکھ روپے مالیت کی چادر چڑھائی، جب کہ مزار کے سامنے کے محلے میں درجنوں ایسے بچے گھوم رہے ہوتے ہیں جنہوں نے قمیض پہنی ہوتی ہے تو شلوار ندارد اور شلوار ہے تو قمیض نہی۔ حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شخص رکے ہوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا، حکومت ٹس سے مس نا ہوئی، تنگ آ کر اس نے خود سوزی کر لی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی۔ اسی طرح ایک صاحب کے مکان پڑ قبضہ ہو گیا، بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا، اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا۔ فائدہ؟ کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا؟

کیا ہمارا "جذبہ ایمانی" صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود زندوں کا خیال رکھیے۔

●▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬●
 


یہ کام ہم سب کو مل کر کرنا ہے. ہم سب کے ارد گرد ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو مجبور ہیں، جو بےکس ہیں، جو غریب ہیں. جن پر ہم کبھی توجہ ہی نہی دیتے۔
ایک منٹ کو رکیے. اور آنکھیں بند کر کے اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں. اپنے پڑوسیوں پر، اپنے رشتےداروں پر، جو آپ کی گلی میں ٹھیلے والا ہے اس پر، جو ایک مزدور آپ کے محلے میں کام کر رہا ہے اس پر۔ جو آپ کے ہاں یا اپ کے دفاتر میں چھوٹے ملازم ہیں ان پر۔

یہ سب لوگ ہمارے کتنا قریب رہتے ہیں اور ہمیں معلوم بھی نہی ان کے ساتھ کیا کچھ بیت رہی ہے۔۔۔ہمیں اس لیے نہی معلوم کہ ہم ان کے قریب رہتے ہوئے بھی ان سے دور ہیں۔ ہم نے کبھی ان کا احساس کیا ہی نہی۔ کبھی ہم نے ان سے کچھ پوچھا بھی نہی.(بلکہ شائد ہمیں ان چھوٹے لوگوں سے بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے( ۔

ان کو اپنے قریب کیجیے، ان کی جو ممکن ہو مدد کیجیے اور جو آپ کے بس میں نہ بھی ہو تو دل جوئی کیجیے ان کی۔

کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم "جوش ایمان" میں ایک ایک گلی میں تین تین، چار چار مساجد بنا دیتے ہیں انھیں خوب سجا دیتے ہیں(نمازی چاہے ہر ایک میں دو دو ہی ہوں) لیکن اسی گلی میں کئی غریب رات کو بھوکے سوتے ہیں ان کی طرف کوئی دھیان ہی نہی دیتا. کسی بیمار کے پاس دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہی ہوتے، اس کی مدد کو کوئی "صاحب ایمان" آگے نہی آتا۔۔
خدا کے بندوں کا بھی کچھ خیال کیجیے