Wednesday, June 13, 2012

ویل وشننگ - اشفاق احمد کی حکمت کی باتیں

میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ جب وقت ملے اور گھر میں کوئی دیوار ہو تو اُس میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ جب وقت ملے اور گھر میں کوئی دیوار ہو تو اُس کے ساتھ ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھ کر اپنا تجزیہ ضرور کیا جانا چاہئے- یہ ہے تو ذرا سا مشکل کام اور اس پر انسان اس قدر شدّت سے عمل پیرا نہیں ہو سکتا، جو درکار ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی اپنی باتیں کُھل کر سامنے آتی ہیں- آپ نے سُنا ہوگا کہ یہ جو رفو گر ہیں، کشمیر میں برف باری کے دنوں میں اپنا سوئی دھاگہ لے کر چلے جاتے ہیں اور وہاں کپڑے کے اندر ہو جانے والے بڑے بڑے شگافوں کی رفو گری کا کام کرتے ہیں، جن میں خاص طور پر گرم کپڑوں کے شگاف اور”لگار“ اور چٹاخ جو ہوتے ہیں اُن کی رفو گری کرتے ہیں، وہ کہاں سے دھاگہ لیتے ہیں اور کس طرح سے اس کو اس دھاگے کے ساتھ مہارت سے ملاتے ہیں کہ ہم”ٹریس“ نہیں کر سکتے کہ یہاں پر اتنا بڑا (Gape) سُوراخ ہو گیا تھا، کیونکہ وہ بالکل ایسا کر دیتے ہیں، جیسے کپڑا کارخانے سے بن کر آتا ہے-

یہ رفو گروں کا کمال ہے- وہ غریب لوگ اپنی چادر لے کر اور اپنی کانگڑی (مٹّی کی بھٹّی) سُلگا کر اُس میں کوئلے ڈال کر، دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھے ہوتے ہیں اور بہت بھلے لوگ ہیں یہ کشمیری لوگ، بڑی ہی بھلی کمیونٹی ہیں، کیونکہ وہ اپنا تجزیہ کرتے ہیں اور اُن کو پتہ چلتا رہتا ہے اپنے اس Self کا جو لے کر انسان پیدا ہوا تھا، محفوظ رکھا ہوا ہے یا نہیں- گو ہم نے تو اپنی Self کے اوپر بہت بڑے بڑے سائن بورڈ لگا لئے ہیں، اپنے نام تبدیل کر لئے ہیں، اپنی ذات کے اوپر ہم نے پینٹ کر لیا ہے- ہم جب کسی سے ملتے ہیں، مثلاً میں آپ سے اس اشفاق کی طرح نہیں ملتا، جو میں پیدا ہوا تھا، میں تو ایک رائٹر، ایک دانشور، ایک سیاستدان، ایک مکّار، ایک ٹیچر بن کر ملتا ہوں-اس طرح آپ جب مجھ سے ملتےہیں تو آپ اپنے اپنے سائن بورڈ مجھے دکھاتے ہیں- اصل Self کہاں ہے، وہ نہیں ملتی- اصل Self جو اللہ نے دے کر پیدا کیا ہے،وہ تب ہی ملتا ہے، جب آدمی اپنے نفس کو پہچانتا ہے،لیکن اُس وقت جب وہ اکیلا بیٹھ کر غور کرتا ہے، کوئی اُس کو بتا نہیں سکتا۔ اپنے نفس سے تعارف اُس وقت ممکن ہے جب آپ اُس کے تعارف کی پوزیشن میں ہوں اور اکیلے ہوں- جس طرح خُدا وند تعالٰی فرماتا ہے "جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اُس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا-“

جس انسان نے خود کو پہچان لیا کہ میں کون ہوں؟ وہ کامیاب ہو گیا اور وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو باوجود اس کے کہ علم زیادہ نہیں رکھتے، اُن کی تعلیم بھی کچھ زیادہ نہیں، لیکن علم اُن پر وارد ہوتا رہتا ہے، جو ایک خاموش آدمی کو اپنی ذات کے ساتھ دیر تک بیٹھنے میں عطا ہوتا ہے-

میں پہلے تو نہیں اب کبھی کبھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ ،اور عمر کے اس حصّے میں میری طبیعت پر ایک عجیب طرح کا بوجھ ہے، جو کسی طرح سے جاتا نہیں - میں آپ سے بہت سی باتیں کرتا ہوں- اب میں چاہوں گا کہ میں اپنی شکل آپ کے سامنے بیان کروں اور آپ بھی میری مدد کریں، کیونکہ یہ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ مجھ جیسے پریشان اور درد مند آدمی کا سہارا بن جائیں- ہمارے بابے جنکا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی محفل میں کسی یونیورسٹی، سیمینار، اسمبلی میں، کسی اجتماع میں یا کسی بھی انسانی گروہ میں بیٹھے کوئی موضوع شدّت سے ڈسکس کر رہے ہوں اور اُس پر اپنے جواز اور دلائل پیش کر رہے ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آجائے جو بہت طاقتور ہو اور اُس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا کیونکہ اُس آدمی کے پاس اس دلیل کی کاٹ نہیں ہو گی- شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آ گئی ہے کہ یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا- اس موقع پر”بابے“ کہتے ہیں کہ"اپنی دلیل روک لو، بندہ بچا لو، اسے ذبح نہ ہونے دو، کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے-“

ہم نے تو ساری زندگی کبھی ایسا کیا ہی نہیں- ہم تو کہتے ہیں کہ” میں کھڑکار پادیاں گا-“ ہماری بیبیاں جس طرح کہتی ہیں کہ” میں تے آپاں جی فیر سدھی ہوگئی،اوہنوں ایسا جواب دتا کہ اوہ تھر تھر کنبن لگ پئی، میں اوہنوں اک اک سُنائی، اوہدی ماسی دیاں کرتوتاں، اوہدی پھوپھی دیاں وغیرہ وغیرہ-“

( باجی میں نے تو اُس کو کھری کھری سنا دیں، جس سے وہ تھر تھر کانپنے لگی- اُس کو اُس کی خالہ، پھوپھی سب کی باتیں ایک ایک کر کے سُنائیں)

خیر انسان کمزور ہے، ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں-بڑی دیر کی بات ہے، 1946ء کی، جب پاکستان نہیں بنا تھا- میں اُس وقت بی اے کر چکا تھا اور تازہ تازہ ہی کیا تھا- ہمارے قصبے کے ساتھ ایک گاؤں تھا- اس میں ایک ڈسٹرکٹ بورڈ مڈل سکول تھا، وہاں کا ہیڈ ماسٹر چھٹی پر گیا- اُس کی جگہ تین ماہ کے لئے مجھے ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا- اب میں ایک پدّا سا (چھوٹے قد کا) نوجوان بڑے فخر کے ساتھ ایک سکول ہینڈل کر رہا ہوں- گو مجھے زیادہ تجربہ نہیں ہے، لیکن میں زور لگا کے یہ بتانا چاہتا ہوں دوسرے ماسٹروں کو کہ بی اے کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہ بیچارے نارمل سکول پڑھے ہوئے تھے-جیسا کہ ہر نئے آدمی کی عادت ہوتی ہے یا جو بھی کسی جگہ نیا آتا ہے، وہ ہمیشہ سسٹم ٹھیک کرنے پر لگ جاتا ہے- یہ بندے کے اندر ایک عجیب بلا ہے- میں نے بھی سوچا کہ میں سکول کا سسٹم ٹھیک کروں گا، حالانکہ مجھے چاہئے تو یہ تھا کہ میں پڑھاتا اور بہتر طور پر پڑھاتا اور جیسا نظام چل رہا تھا، اُسے چلنے دیتا، لیکن میں نے کہا نہیں، اس کا سسٹم بدلنا چاہئے- چنانچہ میں نے کہا یہ گملا ادھر نہیں اُدھر ہونا چاہئے- وہ جو سن فلاور (سورج مُکھی) ہوتا ہے، وہ مجھے بہت بُرا لگتا ہے- اُس پیلے پھول کو میں نے وہاں سے نکال دینے کا حُکم دیا- اب اگلا پھٹا (ڈیسک) پیچھے کر کے پچھلا آگے کر کے سسٹم تبدیل ہو رہا ہے- گملوں کو گیرو لگا دو، سُرخ رنگ کا، سفیدی کر دو، تمام ماسٹر صاحبان پگڑی باندھ کر آئیں- اس طرح سکول میں سسٹم کی تبدیلی جاری تھی- ماسٹر بیچارے بھی عذاب میں مُبتلا ہو گئے- سکول میں چھٹی کے وقت پہاڑے کہلوائے جاتے تھے- چھ کا پہاڑہ ماسٹر صاحب کہلوا رہے تھے-

" چھ ایکم چھ ، چھ دونی بارہ چھ تیا اٹھارا ، چھ چوکے چودی “

میں نے سکول میں ایک شرط عائد کر دی کہ بچوں میں شرمندگی اور خفّت دور کرنے کے لئے ان کو سٹیج پر آنا چاہئے اور بلیک بورڈ (تختہ سیاہ) کے سامنے کھڑے ہو کر یہ پہاڑہ لکھنا چاہئے- چوتھی جماعت کا ایک لڑکا تھا، اب مجھے اُس کا نام یاد نہیں صادق تھا یا صدّیق- اُس نے تختہ سیاہ پر لکھنے سے انکار کر دیا کہ میں نہیں لکھوں گا- اُستاد نے کہا کہ یہ ہیڈ ماسٹر صاحب کا حُکم ہے، تمہیں وہاں جا کر لکھنا پڑے گا، لیکن اُس نے صاف انکار کر دیا- وہ شرماتا ہو گا بیچارہ گاؤں کا لڑکا- اُسے میرے سامنے پیش کیا گیا- بتایا گیا کہ یہ لڑکا پہاڑہ تو ٹھیک جانتا ہے، لیکن بورڈ پر لکھتا نہیں- میں نے پوچھا، تم کیوں نہیں لکھتے، اُس نے کہا میں نہیں لکھوں گا- میں نے اُس کا کان پکڑ کر مروڑا اور کہا کیا تجھے معلوم ہے کہ میں تجھے سخت سزا دوں گا، کیونکہ تم میرے اصول کے مطابق کام نہیں کر رہے-اُس نے کہا جی میں یہ نہیں کر سکتا، مجھ سے لکھا نہیں جاتا شرمیلا تھا شاید- میں نے ماسٹر صاحب سے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ اسے ساری کلاسوں میں پھرائیں اور سب کو بتائیں کہ یہ نا فرمان بچّہ ہے اور اس نے ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات نہیں مانی- ماسٹر صاحب اُسے میرے حُکم کے مطابق لے گئے اور اُسے گھماتے رہے-دیگر اُستادوں نے بھی بادل نخواستہ اپنی طبیعت پر بوجھ سمجھ کر میرے اس حُکم کو قبول کیا، تاہم اُنہوں نے میری یہ بات پسند نہیں کی، جسے میں اپنی انتظامی صلاحیت خیال کرتا تھا-اس کے بعد وہ لڑکا چلا گیا- اس کے بعد کبھی سکول نہیں آیا- اس کے والدین نے بھی کہا کہ جی وہ سکول نہیں جاتا- گھر پر ہی رہتا ہے- میں نے اپنے ایک فیصلے اور حُکم سے اُسے اتنا بڑا زخم دے دیا تھا کہ وہ اُس کی تاب نہ لا سکا- گو میں نے بد نیتی سے ایسا نہیں کیا تھا، لیکن اب میں بیٹھ کر سوچتا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ میں نے اتنے اچھے صحت مند پیارے بچّے کے ساتھ کیا حماقت کی ہے- اُس وقت میرے ذہن میں Scar یعنی زخم کا لفظ نہیں آیا- تب میں سمجھتا تھا کہ پڑھانے کے لئے ایسا ہی سخت روّیہ ہونا چاہئے-


وہ زمانہ گُزر گیا،پاکستان بن گیا- ہم ادھر آگئے- وہ لوگ پتا نہیں کدھر ہوں گے- ایسے ہی مجھے پتا چلا کہ وہ گھرانہ ساہیوال چلا گیا تھا- باپ کو اُسے پڑھانے کا بہت شوق تھا، خواہش تھی- اُس نے بچّے کو پھر سکول داخل کرایا، لیکن وہ سکول سے بھاگ جاتا تھا- ڈرتا تھا اور کانپتا تھا- وقت گُزرتا گیا- بہت سال بعد مجھے پھر معلوم ہوا کہ اُس لڑکے نے بُری بھلی تعلیم حاصل کر لی ہے اور لاہور سے انجینئرنگ یونیورسٹی سے بی ایس سی بھی کر لی ہے- ایک اندازہ تھا لوگ مجھے آکر یہ بتاتے تھے کہ شاید وہی لڑکا ہے کوئی یقینی بات نہیں تھی- پچھلی سے پچھلی عید پر جب ہم نماز پڑھ چکے، تب ہم عید کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں- معانقہ کرتے ہیں”جپھی“ ڈالتے ہیں- اس میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اُس بندے کو جانتے ہیں یا نہیں- آپ کی صف میں جو بھی ہو اُس سے معانقہ کیا جاتا ہے- کوئی واقف کار ہو یا نہ ہو- میرے ساتھ لوگ ملتے رہے اور ہم بڑی محبّت سے ایک دوسرے سے جپھی ڈالتے رہے- وہاں ایک نوجوان کھڑا تھا، وہ بھی کسی سے مل رہا تھا- میں نے کہا یہ میری طرف تو متوجہ نہیں ہوتا، میں ہی اس کی طرف متوجہ ہوں- میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا- اُس نے پلٹ کر دیکھا اور جب میں نے آگے بڑھ کر اُسے جپھی ڈالنے کی کوشش کی تو اُس نے دونوں ہاتھوں سے مجھے پرے دھکیل دیا- اب میرا یقین ہے کہ یہ وہی لڑکا تھا- میں تو اُس وقت بڑا تھا- وہ چھوٹا تھا تب اور وہ مجھے پہچانتا تھا- میں اُسے نہیں پہچان سکتا تھا- اب میں اُس کو تلاش کر رہا ہوں اور بہت تکلیف میں ہوں اور اس بات کا آرزو مند ہوں کہ کسی طرح سے مجھے اُس سے معافی مل جائے-

بظاہر تو یہ اتنی بڑی کوتاہی نہیں تھی، لیکن جو واقعہ گُزرا اور جس طرح سے اُس کے دل کے اوپر لگا اور وہ زخم کتنے ہی سال گُزرنے کے بعد بھی اُس کے دل پر چلا آرہا ہے اور اب وہ واقعہ ایک نئے رُوپ میں مجھے پریشان کرتا ہے، دُکھ دیتا ہے- میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ بظاہر یہ بات معمولی لگتی ہے، بظاہر ہم یہ بات کہ دیتے ہیں کہ میں نے اس کو ایسا پوائنٹ مارا کہ اس کی پھٹکری پُھل کر دی، لیکن ایک بندہ زندہ رہتے ہوئے بھی اپنے اندر کی لاش ساتھ اُٹھائے پھرتا ہے اور آپ اُس کے قاتل ہیں- اُس کا دَین، اُس کی دیت، اُس کا قصاص کس طرح سے ادا کیا جائے، یہ سمجھ سے باہر ہے- وہ کشمیری جن کو بھارتی گورنمنٹ اپنا اٹوٹ انگ کہتی ہے کہ یہ ہمارے بدن کا ایک حصّہ ہیں، مگر ان بھارتیوں نے گزشتہ 56 برسوں میں کتنے زخم کشمیریوں کو دئے ہیں- جسمانی بھی، روحانی بھی، نفسیاتی بھی اور ہر طرح کے زخم اور وہ ساری کی ساری قوم بھارت کے سامنے ایسی ہی ہو گئی ہے جیسے وہ زخم لئے پھرتی ہو۔ کچلی ہوئی انا کا زخم، ہاتھ کا زخم، اسلحے باروں کا زخم اور ان کی یہ کیفیت اجتماعی طور پر ہے۔

لوگ اکثر بیٹھے یہ باتیں کرتے ہیں کہ بھارتی فلموں کے بہت اچھے ناچ گانے ہوتے ہیں۔ وہ دھیمے انداز کی بیبیاں ماتھے پر بندی لگاتی ہیں، تو اچھی لگتی ہیں۔ لیکن جس طرح کشمیر یوں کا دکھ محسوس کرتے ہوئے میں آپ کو دیکھتا ہوں۔ میں اتنی بڑی قوم کو ملاحظہ کرتا ہوں تو سارے کشمیریوں میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں جس میں بھارت کی فوج نے کوئی جانی نقصان نہ کیا ہو اور پھر ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بہت پیارے ہیں اور ہمارے بدن کا حصہ ہیں اور ہمارا اٹوٹ انگ ہیں۔ شائد ان کی کشمیریوں کے لئے یہی انداز اور طریقہ ہے کہ وہ چھ سات لاکھ کی فوج کشمیر کے اندر بھیج کر ظلم ڈھارہے ہیں۔ ایسی کوتاہیاں انفرادی طور پر بھی آدمی سے ہوتی ہیں، اجتماعی طور بھی ہوتی ہیں۔ لیکن جب مسلسل اجتماعی رنگ میں ہونے لگیں تو اس کے باوجود بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کامیاب ہیں، لیکن یہ کامیابی نہیں ہوتی۔

ہمارے اور اللہ کے ٹائم میں بڑا فرق ہے۔ ہمارا جو ایک دن ہے وہ اللہ کے لئے تو کچھ بھی نہیں۔ پتا نہیں ہمارا کتنا ٹائم لگ جائے تو پھر اللہ کا ایک دن بنے۔ اللہ نے کہیں فرمایا بھی ہے کہ وقت کیا ہیں۔ میرا مطلب ہے ہمارے وقت سے مختلف۔ اب ہم اپنے کشمیری بھائیوں کا اور میں اپنے اس بچے کا، جس کا میں ہیڈماسٹر بن گیا تھا ، اس طرح سے "پراسچت" کر سکتے ہیں ایسی تلافی کرسکتے ہیں کہ ہم ان کی بہتری چاہیں، دل سے انہیں اچھا wish کریں۔ یہ ایسی بات ہے جو دعا سے بھی طاقتور ہوتی ہے۔ ہم ان کے ساتھ جاکر لڑ تو نہیں سکتے۔ میں اس کے اوپر یعنی well wishing پر کسی اگلے پروگرام میں بات کروں گا۔ دعا لفظوں کے ساتھ مانگی جاتی ہے، لیکن جب آپ کسی کے لئے well wish نیک خواہشات کے طور پر کریں، آرزو اچھی رکھیں اور آپ کسی کو کہ دیں کہ غلام محمد بڑا اچھا آدمی ہے، اللہ اس کو بھاگ لگائے۔ چاہے آپ کسی کو بے خیالی میں کہ دیں، پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ کی وہ دعا قبول نہ ہو۔

ہمارے قدرت اللہ شہاب صاحب کا بھی سٹائل تھا، جو بھی ان سے دعا کرنے کی درخواست کرتا آپ اسے well wish کرتے۔ اکثر اس کا کام بن جاتا۔ آپ ان سب لوگوں کے لئے جو بڑے دکھ سے گزر رہے ہیں اور بڑی تکلیف میں ہیں، ان کے لئے اور کچھ نہیں کرسکتے تو well wish ضرور کریں اور اگر آپ کے گھر کے اندر کوئی دیوار ہے اور کبھی آپ کو مغرب کا وقت میسر آئے تو آپ اس کے ساتھ ڈھو (ٹیک) لگاکر بیٹھیں اور اپنے اللہ سے یہ ضرور کہیں کہ " میں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کے لئے جن پر صریحاً ظلم ہو رہا ہے، محض اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں، خدا ان پر رحم کریں اور کہیں کہ”اے اللہ! میں ان کے لئے اور کچھ نہیں کر سکتا، صرف Well Wish کر سکتا ہوں- اے اللہ! تُو مدد فرما-“ لیکن آپ کو اس کے لئے وقت نکالنا پڑے گا- یہ نہیں کہ آپ چلتے ہوئے رسماً پڑھ لیں اس طرح سے Well Wish اثر نہیں کرے گی- جو ہاتھوں کی زنجیر بنتی ہے وہ تصویر کھینچنے کے لئے ہوتی ہے- یہ تصویر جو الگ بیٹھ کر آپ کھینچیں گے یہ اللہ کے دربار میں کھنچے گی اور اللہ اس کی طرف متوجہ ہوگا- میرے لئے بھی یہ دعا ضرور کیجیے گا کہ وہ نوجوان، اب ماشاءاللہ اُس کے بچّے ہوں گے، مل جائے اور اتنا ناراض نہ رہے، جتنا ناراض ہونے کا اُسے حق پہنچتا ہے-

اللہ آپ کو خوش رکھے-اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ!!

0 comments:

Post a Comment

Leave a comment