Tuesday, August 7, 2012

گورنر کا عبرت ناک انجام




 
جب اہلِ مکہ نے پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کونیست و نابود ہوتے دیکھا!



گورنر تو گورنر ہوتا ہے، چاہے کسی ملک کا بھی ہو۔ یہاں جس گورنر کا ذکر ہے، اس کا نام تھا ابرہہ۔ ملک یمن میں اسے حبشہ کے بادشاہ نے گورنر مقرر کیا تھا۔ اس وقت جمہوریت نہیں تھی اور نہ ہی جماعتیں ہوتی تھیں کہ قومی خزانہ لُوٹ کھسوٹ کر اپنے بینک بھریں۔ لیکن اس وقت بینک بھی نہیں تھے۔

ابرہہ نے دیکھا کہ ہر سال لوگ بیت اللہ کا حج کرنے ملک عرب کے شہر مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ ابرہہ نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی ایسا ہی عبادت خانہ بنائے۔ لوگ دور دور سے آئیں گے اور یوں اس کی مشہوری ہوگی ۔ ٹیکس لگائیں گے تو آمدنی بھی ہوگی۔ ہر دور کے لٹیروں کی سوچ یہی رہی ہے۔

اب ابرہہ نے کثیررقم خرچ کرکے بڑا ہی خوبصورت عبادت خانہ صنعا شہر میں تعمیر کرایا۔ اس نے لوگوں کو حکم دیا کہ ہر سال وہاں آؤ ۔ لوگ کسی گورنر کے حکم پر تو عبادت نہیں کرتے۔ لطیفہ یہ ہوا کہ کسی من چلے نے اس نقلی معبد میں غلاظت پھیلا دی۔ اسی دوران ایک عرب قافلہ صنعا کے باہر ٹھہرا۔ سوئے اتفاق کھانا پکانے کی وجہ سے ایندھن کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ عمارت آگ کی لپیٹ میں جل کر راکھ ہوگئی۔

اس پر گورنر ابرہہ مشتعل ہوا۔ سخت طیش میں اس نے سوچا کہ عربوں کا خانہ کعبہ ڈھا دیا جائے۔ یہ خیال آتے ہی وہ فوج کے ساتھ ہاتھی لے کر مکہ کی طرف بڑھا۔ ہمارے رسول پاک سیدنا محمد صلى الله عليه وسلم کے دادا سردار عبدالمطلب اس زمانے میں خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ انھوں نے حملے کی خبر سنی تو تباہی سے محفوظ رہنے کی خاطر اہلِ مکہ کو لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔


اتفاق یہ ہوا کہ سردار عبدالمطلب کے اونٹ ابرہہ کے سپاہیوں نے پکڑ لیے۔ انہوں نے ابرہہ سے جا کر اپنے اونٹ مانگے تو اس نے بہت حیرانگی سے کہا کہ میں ایسے گھر کو نیست ونابود کر نے آیا ہوں جس میں تیری عزت اور تیری قوم کی سربلندی ہے اور تو میرے پاس اپنا اونٹ لینے پہنچ گیا۔ عبد المطلب نے کہا:’’اونٹ اللہ کے فضل سے ہمارے ہیں لہٰذا وہی واپس طلب کر رہے ہیں۔ خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے، وہی اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘


بہرحال ابرہہ حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ بھیجے جنھوں نے اپنی چونچوں اور پنجوں سے فوج اور ہاتھیوں پر کنکر برسائے۔ اللہ کی قدرت ہر کنکر سے فوجی اور ہاتھی یوں مرا جیسے مشین گن سے چھلنی کردیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ سوائے ایک سپاہی کے کوئی فوجی اور ہاتھی نہ بچا۔ اس آخری سپاہی نے بھی جب جا کر سارے لشکر کی بربادی کی خبر دی، تو اس کے سر پرمسلط پرندے نے کنکر گرایا۔ وہ بھی ہاتھی سمیت اس طرح ہوگیا جیسے کھایا ہوا بُھس ریزہ ریزہ ہو جائے۔

اللہ نے اپنے گھر کے دشمن تباہ کرنے کے لیے نہ فوجیں بھیجیں نہ لشکر، نہ ہاتھیوں کے مقابلے کے لیے ہاتھی، بلکہ پرندوں سے اسے بُرے انجام سے دوچار کرکے نافرمانوں اور باغیوں کو پیغام دیا کہ وہ خدائی لشکر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

یہ عبرت نام واقعہ اتنا عام ہوا کہ عرب اسے ہاتھیوں والا سال (عام الفیل)کہنے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ختم نبوت کے تاجدار امام الانبیاء سیدنا محمد صلى الله عليه وسلم کی پیدائش مبارک سے پچاس دن قبل پیش آیا تھا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ آنے والی مبارک ہستی کے دشمنوں کو اللہ اسی طرح نیست و نابود کرتا رہے گا۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ نے اپنے محبوب پاکؐ کا کلمہ بھی نصیب فرمایا اور اُن کے ذریعے قرآن مجید جیسی آخری مبارک آسمانی کتاب عطا فرمائی تاکہ ہم اس پر عمل پیرا ہو کر دُنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نہ قرآن پاک تلاوت کرتے نہ عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اسی باعث ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں۔ اللہ ہمیں پکا  اور سچا مسلمان،  اور بہت ہی اچھا مومن بنائے۔ (آمین)

قرآن مجید نے اس دل چسپ، عبرت ناک اور وحشت اثر واقعے کو سورہ الفیل پارہ ۳۰ میں بیان فرمایا ہے۔ دشمنوں نے پورا زور لگایا کہ اسلام کو پھیلنے نہ دیا جائے۔ تب اللہ نے اپنے محبوب پاک صلى الله عليه وسلم کو یوں دلاسا دیا اور دل جوئی کی:

’’کیا آپؐ نے نہیں دیکھا کہ کس طرح کا سلوک کیا ہم نے ہاتھیوں والوں سے(۱)
 اور ہم نے اُن کے دائو کو برباد نہ کردیا۔ (۲)
 اور ہم نے بھیجے ان پر پرندوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ (۳)
 ہم نے گرائے ان پر کنکر پتھروں کے (۴)
 پس اس نے کردیا انہیں کھائے ہوئے بھس کی مانند (۵)‘‘
آج اسی انجام سے دوچار ہونے والے ہیں اللہ کے باغی بشرطیکہ ہم صحیح ایمان والے بن جائیں۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بُجھایا نہ جائے گا

0 comments:

Post a Comment

Leave a comment